ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بیلگام میں دس روزہ کرناٹکا لیجسلیچر اجلاس، بی جے پی کی ہنگامہ آرائی  کے بعد اختتام پذیر

بیلگام میں دس روزہ کرناٹکا لیجسلیچر اجلاس، بی جے پی کی ہنگامہ آرائی  کے بعد اختتام پذیر

Fri, 21 Dec 2018 20:36:06    S.O. News Service

بنگلورو۔21؍دسمبر(ایس او  نیوز) بلگاوی میں طلب کیا گیا دس روزہ لیجسلیچر اجلاس آج بی جے پی کی ہنگامہ آرائی کی نذر ہوکر ختم ہوگیا۔ کسانوں کے قرضوں کی معافی پر حکومت سے واضح جواب اور بی جے پی کے ریاستی صدر یڈیورپا کے متعلق وزیراعلیٰ کے توہین آمیز بیان پر معذرت خواہی کے مطالبوں کو لے کر بی جے پی اراکین نے آج آخری دن بھی ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دی۔ جس کے سبب اسمبلی کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیاگیا۔

پچھلے دو دنوں سے ایوان میں بی جے پی کی ہنگامہ آرائی کے سبب کوئی کارروائی نہیں چل پائی۔ اجلاس کے آخری دن آج جیسے ہی کارروائی کا آغاز ہوا بی جے پی نے اپنا دھرنا جاری رکھا۔ اس مرحلے میں اسپیکر کے آر رمیش کمار نے اراکین سے اپیل کی کہ وہ اپنی کرسیوں پر لوٹ جائیں، لیکن کوئی تیار نہیں ہوا۔ بی جے پی اراکین نے اس کے جواب میں نعرے بازی شروع کرتے ہوئے حکومت پر کسانوں کا خون چوسنے کا الزام لگایا اور کہاکہ کسانوں کے قرضے معاف کرنے کے نام پر ان کے ساتھ دھوکہ کیاجارہاہے۔ جواب میں حکمران اراکین نے بھی خوب نعرے بازی کی اور اس کے سبب ایوان میں شور وغل مچ گیا۔ بی جے پی اراکین کے احتجاج کے درمیان ہی اسپیکر نے ایوان میں بل پیش کرنے کی ہدایت دی، وزیر برائے پالیمانی امور کرشنا بائرے گوڈا نے یکے بعد دیگرے بل پیش کرنے شروع کئے۔ ان میں کرناٹکا پبلک سرویس کمیشن ترمیمی بل ، کرناٹکا ٹیکنیکل یونیورسٹی ترمیمی بل ، وزیر اعلیٰ کے پارلیمانی سکریٹری کے عہدوں کو منافع زمرے سے باہر رکھنے کے متعلق بل پیش کیا اور ہنگامے کے دوران ہی ان بلوں کو پاس کرلیا گیا۔ اسی ہنگامے کے دوران اسپیکر رمیش کمار نے پچھلے دس دنوں سے ایوان میں جاری کارروائی کی رپورٹ پیش کرکے کارروائی چلانے میں تعاو ن کرنے والے ممبروں کاشکریہ ادا کیا اور کارروائی کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا، جس کے ساتھ ہی اجلاس کے اختتام کے علامت کے طور پر وندے ماترم بجایا گیا۔ 

اسپیکر کاتبصرہ: ریاستی اسمبلی اسپیکر رمیش کمار نے بلگاوی کے سورنا سودھا میں پچھلے دس دنوں سے جاری لیجسلیچر اجلاس کی کارروائیوں کو غیر اطمینان بخش قرار دیا۔ اجلاس ملتوی کرنے کے بعد ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رمیش کمار نے کہاکہ اجلاس بلگاوی میں ہوا اس بات سے تو وہ مطمئن ہیں لیکن آخری دو دنوں میں جو ہنگامہ مچایا گیا اس کی وجہ سے انہیں کافی دکھ ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دس روزہ اجلاس کے دوران کارروائیاں 45گھنٹوں تک چلی ہیں۔ ان میں سے دس گھنٹے45 منٹ کی کارروائی انتہائی سود مندرہی ۔ انہوں نے کہاکہ 2018-19 کے مالیاتی تخمینہ جات کا نصف سالہ حساب کتاب 13 دسمبر کو ایوان میں پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ 31مارچ 2017تک کی سی اے جی رپورٹ بھی ایوان میں پیش ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ اجلاس کے دوران ایوان میں 13 مختلف عرضیاں دائر کی گئیں ، پندرھویں اسمبلی کی یقین دہانی کمیٹی کی پہلی رپورٹ ایوان میں پیش ہوئی ، اس کے ساتھ ہی نجی بل سے جڑی کمیٹی کی پہلی اور دوسری رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ محکمۂ اقلیتی بہبود وپسماندہ طبقات سے وابستہ اسٹانڈنگ کمیٹی کی عبوری رپورٹ ایوان میں آئی۔ انہوں نے کہاکہ ایوان میں چار تحریک مراعات داخل کئے گئے جن میں سے دو کو ایوان میں تذکرے کے لئے پیش کیا گیا۔ ایوان میں مجموعی طور پر 12 بل پیش ہوئے ان میں سے آٹھ کو منظور کیاگیا۔


Share: